Barbaroslar: Akdeniz’in Kilici | Season 1 Episode 1 Urdu Subtitles Bolum 1

babaroslar-episode-1-Urdu-subtitles

Barbaroslar – Sword of the Mediterranean: The first episode of the new drama series of Engin Altan has been released, which has been well received by the audience. At the beginning of the first episode, the direction of the play and the acting of Engin Altan captivated the audience.

The story revolves around the historical character of Baba Aruj (Baba Oruc, Oruc Reis, Barbarossa) and belongs to the Ottoman Empire. Baba Aruj played an important role in strengthening the Ottoman Empire while living at sea.

The story dates back to the end of the 15th century and the beginning of the 16th century. In it you will find swords and arrows, as well as small cannons, rifles, and pistols.


باربروسلر – بحیرہ روم کی تلوار:  اینجن التان کے نئے ڈرامہ سیریل کی پہلی قسط ریلیز کر دی گئی ہے جسکو شائقین نے کافی پسند کیا ہے۔ پہلی قسط کے آغاز میں ہی ڈرامے کی ڈائریکشن اور اینجن التان کی ایکٹنگ نے شائقین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔

بابا عروج (بابا رُچ) کے تاریخی کردار کے گرد گھومتی یہ کہانی سلطنت عثمانیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ بابا عروج نے سمندر میں رہتے ہوئے سلطنت عثمانیہ کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

یہ کہانی پندرہویں صدی کے اختتام اور سولہویں صدی کے آغاز کےدور کی ہے اس میں آپکو تلواروں اورتیروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے سائز کی توپ ، رائفلز اور پستول بھی دیکھنے کو ملیں گی۔

Barbaroslar Episode 1 20 Minute Review

 

Barbaroslar Episode 1 Urdu Subtitles

ناظرین تاریخی ڈرامہ سیریل باربروسلر کی پہلی قسط آگئی ہے اور اس قسط کو شائقین نے بہت پسند کیا ہے۔ انیگن التان جو ارطغرل غازی کے کردار کے بعد پورے پاکستان میں بہت مشہور ہوچکے ہیں اور ہردلعزیز بن چکے ہیں، ان سے شائقین کو بہت امیدیں وابستہ تھیں اور انہوں نے اپنی ایکٹنگ سے شائقین کے دل موہ لیے ہیں۔

 


ناظرین پہلی قسط کا آغاز بہت ہی شاندار ہے۔ شروعات میں ایک بزرگ کو دکھایا گیا ہے جو شاید ایک مورخ ہیں اور وہ بتا رہے ہیں کہ سمندر کی دنیا ایسی خطرناک ہے کہ اس نے بہت سے سلطانوں کے تخت الٹ دیے، ایسے میں 4 بھائی جو اسی سمندر کی زندگی کی عادی تھے، انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور مہارت سے سلطنت عثمانیہ کو مزید مضبوط کیا اور اپنی سلطنت کو نہ صرف سمندری حملوں سے محفوظ بنایا بلکہ سلطنت عثمانیہ کو افریقہ کے دور دراز علاقوں تک پہنچا دیا۔ انہی 4 بھائیوں میں سے 2 بھائی بعد میں باربروسلر کے نام سے پہچانے گئے۔


ناظرین ایگن التان جنکا اس ڈرامے میں مرکزی کردار ہے اور وہ بابا رُچ یا بابا عروج کا کردار نبھا رہے ہیں، انکی اینٹری سے ڈرامے کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ بابا عروج ایک بحری جہاز پر سوا ہیں جو بہت خطرناک راستے سے گزر رہا ہے۔ اس راستے پر بحری قذاقوں کا خطرہ موجود ہے جو تجارتی جہازوں کو لوٹ لیتے ہیں۔


یہ بحری جہاز سلطنت عثمانیہ کا خزانہ لیکر مملوکوں کی طرف جا رہا ہے اور اسکے کپتان نے بابا عروج کو اپنی حفاظت کی غرض سے بحری جہاز کی کمان سونپی ہے۔


جب بحری جہاز خطرناک علاقے میں داخل ہوا تو بابا عروج نے اپنے سپاہیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی آپ لوگوں سے جھوٹ نہیں بولا اس لیے آج بھی میں کھل کر بات کروں گا۔ آگے جنگ کا خطرہ ہے۔ یاد رکھیں لوگ 3 قسم کے ہوتے ہیں، ایک بادشاہ، ایک وہ جو بادشاہ سے ڈرتے ہیں اور تیسرے وہ جن سے بادشاہ ڈرتے ہیں۔ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو آسانی سے ڈرتے نہیں ہیں۔ آج میں عہد کرتا ہوں کہ ہمارا سامنا ڈاکوں سے ہو یا کسی بادشاہ سے ہو، ہم انہیں ڈرائیں گے۔ اس بیان سے سپاہیوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔


باباعروج سمندر کے درمیان اپنی آوازوں کی گونج سے سامنے آنے والے سمندری پہاڑوں کا اندازہ لگاتے ہیں اور اسی حساب سے جہاز کو دائیں طرف موڑنے کا حکم دیتے ہیں


جبکہ کچھ دور بحری قذاقوں کا ایک جہاز موجود ہے جو انکی آمد سے باخبر ہے اور ان ڈاکووں کا سرغنہ اپنے لوگوں کو ہدایت دے رہا ہے کہ ہم خاموشی سے انکے جہاز کے قریب آنے کا انتظار کریں گے اور پھر اپنے جہاز کی توپوں سے ان پر حملہ کر دیں گے۔ اگر انہوں نے جہاز روک لیا تو ہم اسکو لوٹیں گے اور اگر نہ رکے تو ہم توپوں سے حملہ کر کرکے انکے جہاز کو تباہ کر دیں گے۔


بحری قذاقوں کے جہاز میں کچھ قیدی بھی موجود ہیں جو شاید مسلمان ہیں اور ڈاکووں نے انکا جہاز تباہ کر کے انکا سارا مال لوٹ لیا اور انہیں قیدی بنایا ہوا ہے۔


یہ بحری قذاق پیغام رسانی کے لیے سمندری پرندوں کی آواز نکال کر اطلاع دیتے ہیں کہ عثمانیوں کا جہاز قریب آرہا ہے۔ بابا عروج کو بھی ان آوازوں کی گونج سنائی دیتی ہے اور وہ اپنے سپاہی کو کہتے ہیں کہ سمندری پرندے جہاز کو دیکھ کر کھانا حاصل کرنے کے لیے جہاز کے اوپر منڈلانے لگتے ہیں۔ جبکہ یہ آوازیں کافی قریب سے آرہی ہیں مگر کوئی بھی پرندہ جہاز کے اوپر نہیں منڈلا رہا۔ اس سے بابا عروج جہاز کے عملے کو چوکنا کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب بہت جلد جنگ ہونے لگی ہے۔


اسکے ساتھ ہی بابا عروج کو کچھ دور ایک اور جہاز دکھائی دیتا ہے جو انہی کی طرف آرہا ہے۔ انکے پاس نہ تو واپس جانے کا راستے ہے اور نہ ہی تنگ راستے کی وجہ سے سامنے سے آنے والے جہاز سے فاصلہ رکھ کر گزر سکتے ہیں۔


خطرے کو بھانپتے ہوئے بابا عروج جہاز کا رخ موڑتے ہیں تاکہ سامنے سے آنے والے جہاز پر حملہ کیا جا سکے۔وہ یہ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ یہی وہ جہاز ہے جسکے لوگ سمندری پرندوں کی آوازیں نکال رہے تھے۔ اسی دوران بابا عروج کے بھائی الیاس کی بھی اینٹری ہوتی ہے اور بابا عروج اسے جہاز کا فرش صاف رکھنے کا کہتے ہیں تاکہ دوران لڑائی کوئی سپاہی پھسلے نہ۔


سلطنت عثمانیہ کے قاصد ہیرا بائی کو عروج بابا بحری جہاز کے نچلے حصے میں موجود محفوظ کمرے میں جانے کا کہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اپنے ذاتی محافظوں کو اپنےساتھ رکھیں۔
پہاڑی کے قریب سے گزرتے ہوئے بابا عروج نے جہاز میں مکمل خاموشی کروائی تو پہاڑی پر موجود مخبر کی آواز کو سُن کر بابا عروج نے تیر چلایا اور وہ مخبر نیچے آن گرا۔


دونوں جہازوں کے قریب آتے ہی بحری قذاق اپنی توپوں سے حملہ کر دیتے ہیں اور مناسب موقع پاتے ہی بابا عروج بھی اپنے سپاہیوں کو یا اللہ، یا بسم اللہ کے نعرے کے ساتھ توپوں سے حملہ کرنے کا کہتے ہیں۔ بحری قذاقوں کو اس حملے کی توقع نہ تھی کیونکہ انکا خیال تھا کہ آنے والا جہاز ہمارے حملے سے بالکل بے خبر ہوگا اور اسکے لوگ ہائی الرٹ پر نہیں ہونگے۔


اس حملے کے ساتھ ہی دونوں جہاز ایک دوسرے کے بالکل قریب آجاتے ہیں اور دونوں طرف سے سپاہی اپنی تلواریں نکال کر لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔
ناظرین اس لڑائی میں تیروں اور تلواروں کے ساتھ ساتھ آپکو بابا عروج کے ہاتھ میں ایک چھوٹی پسٹل بھی نظر آئے گی جس سے وہ دشمن پر گولیاں چلاتے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ بابا عروج لڑائی کے دوران بامسی بیرک کی طرح دونوں ہاتھوں کا استعمال کرتے ہیں۔ انکے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں ترگت الپ کی طرح ایک کلہاڑی موجود ہوتی ہے۔ یعنی آپکو یہ لڑائی دیکھتے ہوئے ارتغرل غازی کی کمال ایکٹنگ، بامسی بیرک کا جوش اور ترگت الپ کا غصہ، سب ایک ساتھ دکھائی دے گا جو بہت ہی کمال کمبی نیشن بنتا ہے۔


کچھ ہی دیر میں بابا عروج بحری قذاقوں کو شکست دیکر قیدیوں کو رہا کرواتے ہیں اور ڈاکووں کے سرغنہ کے گلے میں رسی ڈال کر اسکو بحری جہاز سے نیچے لٹکا کر پھانسی دے دیتےہیں۔
عثمانی قاصد کے ساتھیوں میں بھی غدار موجود ہوتے ہیں جو اس لڑائی کے دوران قاصد پر ہی حملہ کر دیتے ہیں مگر بابا عروج کے بھائی الیاس ان غداروں کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔
لڑائی کے اختتام پر باربروسا کا بیک گراونڈ میوزک بہت ہی کمال کا تھا جبکہ گرافکس کچھ آرٹیفیشل لگے جنکو بہتر کیا جا سکتا تھا۔


اسکے بعد بابا عروج کے بڑے بھائی اسحاق کی اینٹری ہوتی ہے جو بندرگاہ پر اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ کھڑےاپنے بھائی خضر کا انتظار کر رہے ہیں۔
خضر ایک اور بحری جہاز میں کپتان کوستا کے ساتھ تاجر کی حیثیت سے واپسی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ کپتان کوستاس خضر کو کہتے ہیں کہ تمہاری پھرتی دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ تم ایک تاجر ہو، بلکہ تم تو سمندروں کے شیر بابا عروج کی طرح لگتے ہو۔ مگر خضر کہتے ہیں کہ میرا بھلا تلواروں سے کیا لینا دینا، میں تو بس ایک تاجر ہوں۔ اور میرے پاس سائنس کا علم ہے۔


دوسری طرف قاصد ہیرابائی بابا عروج کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے انکی جان بچائی تو بابا عروج کہتے ہیں کہ شکریہ کی ضرورت نہین کیونکہ آپکی حفاظت کے لیے میں نے پیسے لیےہیں، اور ان پیسوں کو حلال کرنے کے لیے میں اپنی جان کی بازی بھی لگادیتا۔ اسکے بعد بحری قذاقوں کے جہاز سے ملنے والے مال غنیمت کو بابا عروج اپنے شہیدوں اور سپاہیوں میں تقسیم کرنے کا کہ دیتے ہیں اور انکے اپنے حصہ میں محض ایک تانبے کا کڑا ہی آتا ہے جس پر وہ بخوشی راضی ہوتے ہیں


خضر بندرگاہ پر اتر کر اپنے بھتیجوں کو تحائف دیتے ہیں اور بڑے بھائی اسحاق سے ملتے ہیں۔وہ اسحاق کو کہتے ہیں کہ اب میں آپکے ساتھ ہی رہوں گا کیونکہ آپ ہی میرے استاد ہیں۔ اس پر اسحاق خوش ہوتے ہیں اور اسے شاباش دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے خوشی ہے، اور میں جانتا تھا کہ تم بابا عروج اور الیاس جیسے نہیں بنو گے۔


اسکے بعد اگلے سین میں مصر کی بندرگاہ کا قریبی شہر اسکندریہ دکھایا گیا ہے جہاں غلاموں کی خریدوفروخت ہورہی ہے یہاں ایک خاتون ازابیل کا کردار دکھایا گیا ہے جو ایک سرائے میں کچھ لوگوں کو ایک بحری جہاز پر رقم خرچ کرنے کے لیے راضی کر رہی ہے۔


یہیں پر ایک شخص ازابیل سے محافظ مہیا کرنے کی درخواست کرتا ہے تو ازابیل کہتی ہے کہ بہترین محافظ کچھ ہی دیر میں یہاں پہنچنے والے ہیں انکو میں تمہارے ساتھ روانہ کر دوں گی۔ ساتھ ہی ازابیل وہاں موجود ایک اور لڑکی ایرینا کو خاص کھانا بنانے کا کہتی ہے اور کہتی ہے کہ بہت جلد عروج یہاں پہنچ جائے گا تو اسے اچھے کھانے کی ضرورت ہوگی۔


یہاں ڈیسپینا کی اینٹری ہوتی ہے جو بابا عروج کی بیوی ہے اور ایک بظاہر جادوگرنی جسکا نام آسیہ ہے، ڈیسپینا کا معائنہ کر کے اسے امید سے ہونے کی خوشخبری سناتی ہے۔ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ آنے والا بچہ لڑکا ہی ہوگا۔ ڈیسپینا اسے کہتی ہے کہ وہ مزیدا یک ہفتہ انتظار کرنے کے بعد عروج کو اس بارے میں بتائے گی


خضر اپنے استاد سلیمان سے ملنتے جاتے ہیں جو کافی ضعیف ہوچکے ہیں۔ انہیں شاید کسی خزانے کی چابیوں کی تلاش ہے اور استاد سلیمان کے مطابق یہ ویٹیکن کے پادری کے پاس ہوسکتی ہے جبکہ خضر کے مطابق یہ چابی کبھی مغرب نہیں پہنچی اور یہ جیم سلطان نے اپنے خاندان کے کسی فرد کو دے دی ہے، خضر کے مطابق یہ چابی شہزادے مراد کو دی گئی ہے جو عیسائی ہوچکا ہے۔خضر ارادہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ شہزادے مراد سے جا کر ملے گا اور سلطان فاتح اور اسکے پوتوں کو اس شرمندگی سے بچائے گا مگر اسکے قریب پیترو جیسے خطرناک لوگ موجود ہیں جو شہزادے کے قریب کالمنوس کے جزیرے پر ہے۔اسی جگہ سے میں شہزادے مراد کو بچاوں گا۔


اسکے بعد اگلے سین میں ایک قید خانہ دکھایا گیا ہے جہاں کوئی شخص، شاید پیترو ایک قیدی کو لے کر آتا ہے اور ایک بیرک میں ڈال دیتا ہے جہاں پہلے سے ایک قیدی موجود ہے۔ نئے آنے والے قیدی پر کافی تشدد کے نشانات ہوتے ہیں مگر وہ معلومات دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ اسکو قید خانے میں لانے والا شخص وہیں چھوڑ کر واپس جاتا ہے تو پہلے سے موجود قیدی نئے قیدے سے بات چیت شروع کرتا ہے ، نیا قیدی اسے بتاتا ہے کہ ہم اپنے راز کسی کو نہیں بتائیں گے مگر یہ لوگ اُس اندلسی شخص کے بارے میں جان گئے ہیں جو اپنے بچے کے ساتھ بھاگ گیا۔۔۔


یہ سنتے ہی پہلے والا قیدی بولتا ہے وہ ایوب؟؟ جس پر نیا آنے والا قیدی اسکو فوری خاموش کروا دیتا ہے کہ نام نہیں لینا۔ یہ جانتے ہیں کہ ایوب بھاگ کر عرب چلا آیا ہے، کیا ایوب محفوظ ہے؟ پھر پہلا قیدی اسے بتاتا ہے کہ ایوب محفوظ ہے اور یہاں سے بہت دور مردوک جھیل کے ساحل پر ایک گاوں میں مچھلیاں بیچتا ہے۔


یہ سن کر نئے آنے والے قیدی کی آنکھوں میں چمک آجاتی ہے۔ یہ بھی اصل میں دشمنوں کا جاسوس ہی تھا جسکو قیدی بنا کر پہلے والے قیدی سے ایوب کی ٹھکانے کے بارے میں معلومات لینا مقصود تھا۔
استاد سلیمان خضر کے لیے پریشان ہے مگر خضر اسے بتاتا ہے کہ شہزادے کورکت کی طرف سے ملنے والی معلومات کی مدد سے اس نے اپنی چال بہت سوچ سمجھ کر چلی ہے۔کالمنوس میں ایک بڑی تقریب ہوگی جہاں ہم شہزادے مراد کو بچائیں گے اور عوام میں چھپ جائیں گےاور ہم یہ بہت جلد کریں گے۔


اسکے بعد کالمنوس کا شہر دکھایا گیا ہے اور دوبارہ سے وہی قید خانہ۔ مگر اب کی بار پتہ لگتا ہے کہ جس نئے قیدی کو لایا گیا تھا وہ اصل میں قیدی نہیں بلکہ وہی پیترو تھا جسکا ذکر خضر کر رہا تھا۔ راز اگلوانے کے بعد پیترو کا سپاہی پہلے والی قیدی کو قتل کر دیتا ہے۔


اسکے بعد اسکندریہ میں ایک کمرے میں چھوٹا بچا دیکھا گیا ہے جسے ٹانگوں کی کوئی بیماری ہے مگر وہاں موجود طبیبہ کے پاس اس بیماری کا علاج نہیں۔ اس کے علاج اور دوائی کے لیے طبیبہ کہتی ہے کہ اسکا ایک حکیم دوست ہے جو کالمنوس میں ہوتا ہے اور وہ اس مرض کی دوا لینے کالمنوس جائے گی


کالمنوس میں جیوانی نامی حکیم پیترو کے زخم سیتا ہے جو اس نے ایوب کا راز اگلوانے کے لیے سہے تھے۔زخم سینے کے بعد پیترو جیوانی کو وہاں سے چلے جانے کو کہتا ہے۔


پیترو وہیں پر موجود اپنے دوست کو بتاتا ہے کہ ان معلومات کی بنیاد پر وہ عثمانیوں اور مملوکوں کے گرد گھیرا تنگ کر دے گا،اور اسکے ساتھ ساتھ قاہرہ، اسکندریہ، قدس اور قسطنطنیہ کو راکھ کا ڈھیر بنا دےگا۔
بابا عروج کے جہاز پر انکا ساتھی گیلاتوک بتاتا ہے کہ ہمارے جہاز کا کپتان ان بحری قذاقوں کو جانتا ہے جنکو ہم نے ابھی قتل کیا۔ اسکا نام ہینریکو ہے اور اس نے ہمارے کپتان کے ہی ایک دوسرے جہاز پر بھی حملہ کیا تھا۔ اسکا ایک اور بھائی ہے جسکا نام انتوان ہے اوریہ ایک زہریلا قاتل ہے۔ اور اپنے آپ کو سمندر کا خدا کہتا ہے۔


یہ سن کر بابا عروج ایک مزاحیہ قصہ سناتے ہیں کہ میدالی شہر میں ایک سر پھرا رہتا تھا جو اپنے آپ کو قسطنطینیہ کا باشندہ اور بازنطین کا شہنشہا کہتا تھالوگ اسے سمجھاتے مگر وہ باز نہ آتا۔ پھر لوگوں نے بازار میں اسکو مارنا شروع کر دیا اور تب تک مارتے جب تک وہ حکمران ہونے کے دعوے سے باز نہیں آتا تھا۔


اسی طرح جب ہم انتوان سے ملیں گے تو ہوسکتا ہے وہ اپنا ذہن بدل لے، اور اگر وہ اپنے آپکو سمندر کا خدا کہنے پر بضد رہا تو ہوسکتا ہے ہم اسکی پٹائی بھی کریں تب یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔
اسکے بعد انتوان کو دکھایا جاتا ہے جو 3 ترک دیہاتوں پر قبضہ کر کے بہت سے لوگوں کو غلام بنا لیتا ہے۔یہیں پر انتون کو ایک شخص خبر دیتا ہے کہ بابا عروج نے اسکے بھائی ہینریکو کو ماردیا گیا اور میں جان بچا کر آپکو اطلاع دینے آیا ہوں۔ یہ سنتے ہی انتوان غصے سے پاگل ہوجاتا ہے اور وہاں موجود 4 غلاموں کو اپنی تلوار سے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔


بحری جہاز پر موجود بابا عروج اور الیاس اپنے بھائی خضر اور اسحاق کو یاد کرتے ہیں۔ الیاس کو دکھ ہے ہ وہ سلطان بننا چاہتے تھے مگر سمندر کے قذاق بن کر رہ گئے اور ان لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں جنکا ساتھ یونیتا دیتا ہے۔


یہاں بابا عروج اپنے بھائی الیاس کو سمندری نقشہ دکھا کر مختلف علاقوں میں موجود لوگوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو سمندر پر حکمرانی کر رہے ہیں ان میں کمال رئیس ، کلچ بئے اور براق رئیس بھی شامل ہیں۔ بابا عروج الیاس کو بتاتے ہیں کہ یہ سب بہادر ایک اشارے کے منتظر ہیں۔ الیاس کہتا ہے کہ جب یہ سب لوگ تاریخ رقم کر رہے ہیں تو ہم کیوں غیروں کے مال کی حفاظت کر رہے ہیں۔۔۔ ؟


بابا عروج اسے بتاتے ہیں کہ ہمارا کام سب سے مشکل ہوگا، ہم ان تمام بہادروں کو ایک چاند تلے ایسے ہی جمع کریں گے جیسے تمام کافر صلیب کے سائے تلے جمع ہورہے ہیں۔


یہ سن کر الیاس خوش ہاجاتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو عنقریب ہر طرف ترکوں کی حکومت ہوگی۔ بابا عروج کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوگا، مگر اسکے لیے ہمیں یہ کام جاری رکھنا ہے تاکہ ہم یونیتا کے فرانس میں معاملات سے لیکر رن پاپا کی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ تب تک ہم یہ راز اپنے سینوں میں محفوظ رکھین گے


اسکندریہ میں جعفر نامی شخص ازابیل کے باپ کو بابا عروج کے خلاف متنفر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ بابا عروج صرف طاقتور ہونے کا انتظار کر رہا ہے جیسے ہی وہ طاقتور ہوا وہ آپ پر بھی حملہ کرے گا۔ اس پر ازابیل کا باپ جعفر کو کہتا ہے کہ بحیرہ روم میں کوئی کشتی بھی ہماری معلومات میں آئے بغیر داخل نہیں ہوسکتی اور تم کہ رہے ہو کہ 2 ترک بھائی اتنے مضبوط ہوجائیں گے کہ وہ وینس کی تنظیم اور یونیتا سے ہمارے مقدس اتحاد کو شکست دیں گے؟


اسکے بعد ازابیل کا باپ جعفر کو وہاں سے بھیج دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے۔
پیترو اپنے دوست ڈیگو کو بتاتا ہے کہ اس نے اسکندریہ اور وینس سمیت مختلف شہروں سے معلومات حاصل کی اور بحیرہ روم میں خونریزی بھی کی مگر ہم اپنے حدف سے ابھی بھی خاصے دور ہیں۔ اس پر ڈیگو کہتا ہے کہ مگر ہم اپنے حدف کے نزدیک ضرور جا رہے ہیں اور ہمیں کچھ نہ کچھ اہم معلومات ملی ہیں۔ پیترو کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں یہ ابھی بھی آسان نہیں، مگر میں کسی کا غلام نہیں بلکہ میں ہمارے مقدس پوپ کی بیٹی لوکریسیا کے لیے مناسب شوہر ہوںگا۔


پیترو کے پاس کچھ فوجی آتے ہیں جنہوں نے غرناطہ پر حملہ کر کے وہاں کے محافظوں کر قتل کیا تھا وہ انکی زرہیں اور ڈھالیں پیترو کے پاس لاتے ہیں۔ پیترو انکو بہت سا سونا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کافی نہیں تم نے ان لوگوں کے خلاف ابھی مزید جنگیں لڑنی ہیں ، یہ افریقہ میں منظم ہورہے ہیں تم نے انکو ہر بندرگاہ سے دور دھکیلنا ہے، ہر شہر پر حملہ کرنا ہے اور آخر کار انکو بحیرہ روم میں غرق کر دینا ہے۔


خضر اپنے بھائی اسحاق کے بیٹے نیکو سے ایک کشتی لیتےہیں مگر نیکو اسکو کہتا ہے کہ یہ خطرناک ہے،اسحاق آغا مجھ سے جواب مانگیں گے میں انہیں کیا کہوں گا؟ پھر اسے خضر کے پاس ہتھیار نظر آتے ہیں تو وہ خضر کو خبردار کرتا ہے کہ تم کسی بڑی مشکل میں پھنس جاو گے۔ خضر نیکو سے کہتے ہیں کہ تم اسحاق آغا سے کچھ مت کہنا، انہیں کہنا کہ تم نے مجھے دیکھا ہی نہیں۔


نیکو ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح خضر کو اس سفر سے روک دے مگر وہ اس میں ناکام رہتا ہے۔


طبیبہ زینب جو زخمی بچے کی دوا لینے کالمنوس جا رہی ہے اسکو جہاز میں ایک نامعلوم شخص تنگ کرتا ہے اور دست درازی کی کوشش کرتا ہے تو زینب اس کے منہ پر تھپڑ مار کر اسے جواب دیتی ہے۔
اسحاق آغا نیکو سے خضر کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو وہ انکار کر دیتا ہے کہ اس نے خضر کو نہیں دیکھا۔ مگر نیکو کی پریشانی سے اسحاق آغا سمجھ جاتے ہیں کہ نیکو ان سے کچھ چھپا رہا ہے


ایزابیل کو اسکندریہ کے بازار میں گولم خبر دیتا ہے کہ بابا عروج پر سمندر میں ڈاکوں نے حملہ کیا، عروج اپنا دفاع کرنے میں تو کامیاب ہوگئے مگر جس شخص کو انہوں نے مارا اسکا بھائی بھی ڈاکو ہے اور اسکا نام آنتیون ہے۔ ایزابیل سمجھ جاتی ہے کہ یہ معاملہ خطرناک ہے، وہ گولم کو کہتی ہے کہ یہ بات ہمارے درمیان ہی رہنی چاہیے، مگر گولم اسے بتاتا ہے کہ یہ ناممکن ہے، بندرگاہ پر ہر کوئی عروج کے بارے میں بات کر رہا ہے کہ کیسے اس نے بحری قذاقوں کا مقابلہ کیا۔


جس جہاز پر طبیبہ زینب سفر کر رہی ہے اسکا سامنا بھی ایک بحری جہاز سے ہوتا ہے جس میں ڈاکو موجود ہوتے ہیں اور زینب سمیت جہاز کے باقی تمام افراد پریشان ہوجاتے ہیں۔ زینب دعا کرتی ہے کہ یا اللہ ان ڈاکوں سے مقابلہ کرنے کے لیے کسی بہادر کو سمندر میں بھیج۔


دوسری طرف خضر کی کشتی سمندر میں محو سفر ہے اور اسے ایک سمندری طوفان کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔مزید تیزی سے سفر کرنے کے لیے خضر کشتی میں موجود اسحاق آغا کا سامان سمندر میں بہا دیتے ہیں۔
بابا عروج عثمانی قاصد ہیرابائی کو اسکی منزل پر پہنچا دیتے ہیں اور اسکندریہ میں خود اپنے گھر جاتے ہیں جہاں ڈیسپینا اسکا انتظار کر رہی ہے جبکہ الیاس کھانا کھانے کے لیے اسکندریہ کے بازار میں جاتا ہے۔


بابا عروج اپنے گھر کھانا کھاتے ہوئے دسپینا کو کہتے ہیں کہ ہمیں اب میدیلی جانا چاہیے جہاں میں اپنے بھائی بھابھی اور بھتیجوں سے مل سکوں۔ اس پر دسپینا کہتی ہے کہ یہ اچھا رہے گا اسی بہانے میں بھی اپنے بابا سے مل سکوں گی شاید اب انکا غصہ ٹھنڈا ہوچکا ہو پہلے وہ ہماری شادی پر غصہ تھے۔


یہاں کلچ بے کو دکھایا جاتا ہے جو اپنے بیٹے کو بتاتے ہیں کہ اینتوان کے بھائی ہینریکو کو ایک ترک نے مار دیا ہے۔ کلچ بے کا بیٹا شاہین یہ سن کر حیران ہوتا ہے اور پوچھتا ہے کی کیا یہ کمال رئیس کے گروہ سے کسی کا کام ہے؟ کلچ بے اسے بتاتے ہیں کہ نہیں یہ بابا عروج کا کام ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ وہی بابا عروج جو میندیلی میں ایک محافط کی نوکری ڈھونڈ رہا ہے؟


کلچ بے اسے کہتے ہیں کہ کاش یہ کام میرا بیٹا کرتا اور میں خوش ہوتا کہ لوگ میرے بیٹے کی تعریفیں کر رہے ہیں مگر افسوس کے میرا بیٹا تو بابا عروج اور اسکے بھائیوں کو حقیر سمجھتا ہے۔
کلچ بے اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ کل ہم بابا عروج سے ملنے جائیں گے جس پر انکا بیٹا کہتا ہے کہ ہم کیوں جائیں اسے حکم بھیجیں وہ خود یہاں آئے گا۔ اس پر کلچ بے کہتے ہیں کہ بہادر مل کر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی طاقت ہوتے ہیں نہ کہ ایکدوسرے پر بوجھ۔


بابا عروج ایزابیل سے ملنے سرائے جاتے ہیں جہاں ایزابیل ان سے پوچھتی ہے کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ آپ کیا کر کے آرہے ہیں؟ آپ نے کس کو قتل کیا ہے؟ جس پر بابا عروج مسکراتے ہیں تو ایزابیل کہتی ہے کہ آپ اپنی لاعلمی کی وجہ سے یوں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا آپ بیوقوف ہیں؟


بابا عروج کہتے ہیں کہ ہم بے خوف ہیں اس لیے ہم لاپرواہ ہیں۔ مگر ایزابیل کہتی ہے کہ انتوان جسکا دوسرا نام پوسیڈون ہے وہ اپنے بھائی سے بھی زیادہ سرپھرا ہے
مگر بابا عروج اور الیاس اسکی باتوں پر مسکراتے ہیں اور کہتےہیں کہ پوسیڈون سے زیادہ تو تم ہمیں ڈرارہی ہو، فکر مت کرو، جب وہ ہمارے راستے میں آیا تو ہم اس سے بھی نمٹ لیں گے۔اسکے بعد ایزابیل باباعروج کو اگلے سفر کے بارے میں بتاتی ہے کہ انہیں دوبارہ سے ایک تاجر کے سامان کی حفاظت کےلیے سفر پر روانہ ہونا ہوگا۔


کلچ بئے سرائے میں آکر بابا عروج سے ملتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ آپ نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، جبکہ کلچ بے کا بیٹا یہ سب دیکھ کر اندر ہی اندر بابا عروج سے حسد شروع کردیتا ہے۔
اسحاق آغا اپنی بیوی کو بتاتے ہیں کہ وہ خضر کے بارے میں پریشان ہیں، نیکو نے بھی خضر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ بھی عروج کی طرح سمندر میں دلچسپی لینا شروع نہ کردے۔انکی بیوی انہیں تسلی دیتی ہے کہ خضر عقلمندہے وہ ایسا نہیں۔


پیترو اپنے دوست ڈیگو کو بتاتا ہے کہ جس راز کے لیے ہم نے اتنی محنت کی ہے اسکی وجہ سےایک پوری سلطنت تباہ ہوگئی ہے اور اسی راز کی وجہ سے نئی سلطنت بن بھی بن گئی ہے۔
ایوب کے پاس جو راز ہے ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ راز آخر ہے کیا۔۔۔ کوئی خزانہ یا معلومات؟


اسکے بعد ایوب کو دکھایا جاتا ہے جو ایک بوڑھے شخص اور دکھنے میں ایک درویش ہیں۔ انکے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور وہ اس کتاب کو ہاتھ میں لیے قسم کھاتے ہیں کہ جب تک وہ اس راز کو اسکے حقدار کے حوالے نہیں کر دیتے وہ اسکی حفاظت اپنی جان سے بھی بڑھ کر کریں گے۔


خضر ایک لوہار کے بھیس میں کالمنوس میں موجود ہے جہاں اسکی ملاقات پترو سے ہوتی ہے، یہاں پیترو کا سپاہی ایتکو بھی آتا ہے اور خضر کو دیکھ کر پوچھتا ہے تم کون ہو؟ مارکوس لوہار کہاں ہے؟ اس پر خضر کہتے ہیں کہ میں مارکوس کا کزن ہوں اسے کہیں جانا تھا تو وہ اپنی جگہ پر مجھے کام کرنے کا کہ گیا۔ ہم سب گھر والے لوہار ہیں۔ پیترو اور ایتکو کو خضر پر شک ہوتا ہے مگر وہ خاموش رہتے ہیں یہیں خضر کو شہزادہ مراد بھی نظر آتے ہیں جو پیترو سے ملتے ہیں۔


کلچ بئے سرائے میں بابا عروج کی سے گفتگو کر رہے ہوتے ہیں توانکا بیٹا شاہین وہاں سے چلا جاتا ہے، اسے سرائے میں ہی جعفر ملتا ہے اور اسے بابا عروج کی طرف سے اکسانا شروع کردیتا ہے۔ جعفر کلچ بئے کے بیٹے شاہین کو کہتا ہے کہ آپ نے بابا عروج اور الیاس کو اہمیت نہیں دی دیکھ لیں اب وہ آپ سے زیادہ خوش ہیں۔ جعفر کہتا ہے میں آپکو بتاوں گا کہ آپکو کسے قتل کرنا چاہیے مگر اسکے لیے آپکو میرا ساتھ دینا ہوگا۔ جس پر شاہین جعفر کا ساتھ دینے کا وعدہ کرتا ہے۔


زینب کولیمنوس پہنچ کر حکیم جوانی سے ملتی ہے، یہ وہی حکیم ہے جس نے پیترو کا علاج کیا تھا۔ اس سے دوا لیتے ہی زینب واپس جانے کا کہتی ہے جس پر جوانی اسے کچھ دیر رکنے کو کہتا ہے، مگر زینب کہتی ہے کہ وہ بچوں کے لیے فکر مند ہے وہ چاہتی ہے کہ یہاں سے واپس جانے والے پہلے بحری جہاز پر سوار ہوکر وہ بچوں کے پاس پہنچ کر انکاعلاج کر سکے۔


کولمنوس میں ایک بڑی تقریب ہوتی ہے جسکا ذکر خضر نے اپنے استاد الیاس کے ساتھ کیا تھا۔ اسی تقریب میں شہزادہ مراد بھی موجود ہے جو عیسائیوں کی طرح صلیب کا نشان بنا رہا ہے اسکو دیکھ کر خضر کہتے ہیں کہ عثمانیوں کا کوئی بیٹا ایسا کیسے کرسکتا ہے؟ یا اللہ اسے تھوڑی عقل دے۔


تقریب میں ایک بڑا گھنٹہ لٹکایا جاتا ہے جس کو بجا کر عیسائی اپنی عبادت کرتے ہیں، خضر لوہار کے روپ میں اسی گھنٹے کو تیار کرتا ہے، جب یہ گھنٹا نصب ہوجاتا ہے اور ایک پادری اسکو بجاتا ہے تو ایک دھماکہ ہوتا ہے اور ہر طرف بھگدڑ مچ جاتی ہے۔


محافظ شہزادہ مراد کو حفاظت میں لیکر قلعے کی جانب لیجانے لگتے ہیں تو خضر انکا پیچھا کرتے ہیں، خضر کو دیکھ کر شہزادہ مراد کہتے ہیں یہ تو وہی لوہار ہے پکڑ لو اسے۔ یہاں خضر اور شہزادے کے محافطوں کی آپس میں لڑائی ہوتی ہے۔


اسی دوران زینب جو دوائی لیکر واپس جا رہی ہوتی ہے وہ اسی بھگدڑ میں پہنچ جاتی ہے اور پیترو کا سپاہی ایترو اسے لوہار کی مدد کرنے والی مسلمان لڑکی سمجھ کر گرفتار کر لیتا ہے۔
جعفر سونے کے بدلے غلام فروش سے چند غلاموں کو خرید لیتا ہے اور انہیں اس شرط پر آزاد کرتا ہے کہ وہ بابا عروج اور الیاس کو سبق سکھائیں گے۔


بابا عروج الیاس کو بتاتے ہیں کہ ہم اپنے گھر جائیں گے جہاں ہم اپنے بھائی اور بھتیجوں سے ملیں گے۔ الیاس یہ سن کر خوش ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ اسے جہاز کے کپتان نے بتایا تھا کہ ہمارا ایک اور بھتیجا ہونے والا ہے۔ یہ سن کر بابا عروج بھی خوش ہوتے ہیں۔


ڈاکو اینتوان بابا عروج کے شہر ساحل پر پہنچتا ہے جہاں اسکا استقبال یورگو کرتا ہے جو نہ صرف بابا عروج کا دشمن بلکہ اسکا سسر بھی ہے۔ دیسپینا یورگو کی بیٹی ہے جس نے بابا عروج سے شادی اپنے باپ یورگو کی مرضی کے بغیر کی تھی جس سے اسحاق آغا اور یورگو کے تعلقات بھی خراب ہوگئے۔


یورگو اینتوان کو بتاتا ہے کہ بابا عروج نے تم سے تمہارا بھائی چھینا اور مجھ سے میری بیٹی چھین لی جسکو میں ایک عرصے سے دیکھ نہیں سکا۔ اسی لیے میں اسکا دشمن ہوں۔ یورگو انتیوان کو بتاتا ہے کہ خضر یہاں موجود نہیں اور میرے لوگ تمہیں اسحاق کے گھر تک لیجائیں گے۔


خضر شہزادے مراد کا پیچھا کرتے ہوئے تمام محافطوں کوقتل کرنے کے بعد شہزادے کو پکڑ لیتے ہیں جبکہ وہیں پر ایتکو اپنے محافظوں کےساتھ زینب کو گرفتار کرکے لیجارہا ہوتا ہے اور اس سے لوہار کے بارے میں پوچھتا ہے، خضر یہ سن لیتے ہیں اور زینب کو بچانے کی ترکیب کرتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے وہ شہزادے کے گلے میں موجود چابی حاصل کر لیتے ہیں۔


خضر ایتکو کے سامنے آکر اسے للکارتے ہیں کہ اب تم نے معصوم لڑکیوں کو بھی پکڑنا شروع کر دیا ہے؟ ایتکو خضر کو دیکھ کر پہچان لیتا ہے اور اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ اسکو پکڑ لو، موقع سے فائدہ اٹھا کر زینب ایک محافظ کی تلوار نکال کر ساتھ کھڑے محافظوں سے لڑنا شروع کر دیتی ہے جب کہ خضر بھی اتیکو کے محافظوں کا صفایا کرتا ہے۔ زینب کو لڑتا دیکھ کر خضر کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں معصوم لڑکی کہ دیا مگر تم تو بہت تیز ہو۔


خضر اور ایتکو کی لڑائی میں ایتکو کے زخمی ہوتے ہی مزید محافظ آجاتے ہیں جنکے آنے پر خضر زینب کو لیکر وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ زینب نہ چاہتے ہوئے بھی خضر کے ساتھ جانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔
بابا عروج اور الیاس شہر سے نکلتے ہیں تو جعفر کے آزاد کردہ غلام انکا پیچھا کرتےہیں ، بابا عروج اور الیاس دونوں خطرے کو بھانپ لیتے ہیں، بابا عروج ان کو تنبیہ کرتے ہیں کہ ہمیں تم سے کوئی مسئلہ نہیں اپنے راستے جاو ورنہ بعد میں جو ہوگا تم برداشت نہیں کر پاو گے۔یہاں باباعروج اور الیاس ان حملہ آوروں سے لڑتے ہیں۔


خضر اور زینب بھاگتے بھاگتے ایک پہاڑی کے کنارے پہنچ جاتے ہیں جہاں آگے سمندر ہے جبکہ پیچھے پیترو کے سپاہی ہوتےہیں، خضر کہتے ہیں کہ یا تو ہم سمندر میں چھلانگ لگائیں گے یا انکے چند آدمیوں کو مارکر خود بھی مرجائیں گے۔ پھر خضر اور زینب سمندر میں چھلانگ لگادیتے ہیں تیر انداز سپاہی تیر برساتے ہیں مگر اتنی دیر میں زینب اور خضر سمندر کی تہ میں غائب ہوجاتے ہیں۔


انیتوان اسحاق آغاکے گھر میں گھس کر انکو گرفتار کر لیتا ہے جبکہ انکی بیوی جو امید سے ہیں انکے پیٹ میں تلوار گھونپ دیتا ہے


بابا عروج اور الیاس حملہ آوروں سے خوب لڑتے ہیں مگر اچانک ایک حملہ آور الیاس کی گردن پر تلوار رکھ دیتا ہے اور یہیں پہلی قسط کا اختتام ہوتا ہے۔